آزاری[2]

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ایذا رسانی، ستانا، ظلم و جور کرنا، دکھ پہنچانا۔ "لکھو کھا روپے کے اسلحہ و گولہ بارود خرید کرتے اور بنی نوع کی آزادی کے درپے ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، 'مخزن' مارچ، ٢٩ ) ٢ - دکھ، تکلیف، بیماری، علالت، روگ (بیماری کے ساتھ مستعمل)۔ "بیماری آزاری تو چلی ہی جاتی ہے۔"      ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ٩٩:١ )

اشتقاق

فارسی میں مصدر لازم 'آزردن' سے تعدیہ 'آزاریدن' سے حاصل مصدر 'آزار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'آزاری' بنا۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء میں "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایذا رسانی، ستانا، ظلم و جور کرنا، دکھ پہنچانا۔ "لکھو کھا روپے کے اسلحہ و گولہ بارود خرید کرتے اور بنی نوع کی آزادی کے درپے ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٠٧ء، 'مخزن' مارچ، ٢٩ ) ٢ - دکھ، تکلیف، بیماری، علالت، روگ (بیماری کے ساتھ مستعمل)۔ "بیماری آزاری تو چلی ہی جاتی ہے۔"      ( ١٨٩١ء، امیراللغات، ٩٩:١ )

اصل لفظ: آزُرْدَن
جنس: مؤنث